۱؎ یہ حدیث گزشتہ احادیث کی تفسیر ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے کی بھی اجازت ہے اور نہ رکھنے کی بھی۔یہاں ایک اعتراض ہے وہ یہ کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کو روزہ نہ رکھنا بہتر،رکھنا خلاف اولیٰ کیونکہ سرکار نے نہ رکھنے کو حسن فرمایا اور رکھنے کو لَاجُنَاحَ۔جواب یہ ہے کہ عرب کے سفر خصوصًا گرمی کے موسم کے عمومًا دشوار ہوتے تھے اور ان میں روزہ سخت تکلیف کا باعث،بعض لوگ اندازہ میں غلطی کرکے روزہ رکھ لیتے تھے اور پھر بڑی مشقت جھیلتے تھے اس لیے فرمایا گیا کہ ان حالات میں روزہ نہ رکھنا ہی بہتر لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں روزے کو افضل قرار دیا گیا ورنہ عام حالات میں بحالت سفر روزہ رکھ لینا ہی بہترہے۔