Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
257 - 5479
حدیث نمبر 257
روایت ہے حضرت حمزہ ابن عمرو اسلمی سے انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے اندر سفر میں روزہ کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر گناہ ہے فرمایا وہ تو اﷲ عزوجل کی طرف سے رخصت ہے جو اسے قبول کرے تو اچھا ہے اور جو روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر گناہ نہیں  ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ حدیث گزشتہ احادیث کی تفسیر ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے کی بھی اجازت ہے اور نہ رکھنے کی بھی۔یہاں ایک اعتراض ہے وہ یہ کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کو روزہ نہ رکھنا بہتر،رکھنا خلاف اولیٰ کیونکہ سرکار نے نہ رکھنے کو حسن فرمایا اور رکھنے کو لَاجُنَاحَ۔جواب یہ ہے کہ عرب کے سفر خصوصًا گرمی کے موسم کے عمومًا دشوار ہوتے تھے اور ان میں روزہ سخت تکلیف کا باعث،بعض لوگ اندازہ میں غلطی کرکے روزہ رکھ لیتے تھے اور پھر بڑی مشقت جھیلتے تھے اس لیے فرمایا گیا کہ ان حالات میں روزہ نہ رکھنا ہی بہتر لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں روزے کو افضل قرار دیا گیا ورنہ عام حالات میں بحالت سفر روزہ رکھ لینا ہی بہترہے۔
Flag Counter