۱؎ آپ ثابت ابن اسلم مشہور تابعی ہیں،بصرہ کے علماء اعلام میں سے تھے،حضرت انس کے ساتھ چالیس سال رہے۔
۲؎ صحابہ کرام سے فصد کے متعلق یہ سوالات اس حدیث کی وجہ سے ہوتے تھے جو لوگوں میں مشہور ہوچکی تھی"اَفْطَرَالْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ"اس کا مطلب ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔
۳؎ یعنی چونکہ فصد لینے سے خون نکل جانے کے باعث آدمی کمزور پڑجاتا ہے ممکن ہے کہ روزہ پورا نہ کر سکے یا بہت تکلیف اٹھائے اس لیے روزے میں فصد بہتر نہ جانتے تھے اس حدیث نے گزشتہ حدیث"اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ"کی تفسیرکر دی جیساکہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔