۱؎ اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔قے سے مراد وہ قے ہے جو خود بخود ہوجائے لہذا یہ حدیث گزشتہ اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں قے کو روزہ ٹوٹنے کا سبب قرار دیا گیا کیونکہ وہاں وہ قے مراد تھی جو خود کی جائے۔
۲؎ لہذا یہ شاذ بھی ہے اور ضعیف بھی۔خیال رہے کہ یہ حدیث صرف ترمذی کی اسناد میں ضعیف ہے اسے دار قطنی،بیہقی،ابوداؤد نے بھی روایت کیا،ابو حاتم نے کہا کہ ابوداؤد کی روایت اشبہ بالثواب ہے،ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت ہی صحیح ہے،بزار نے سیدنا عبداﷲ ابن عبا س سے اور طبرانی نے ثوبان سے مرفوعًا روایت کی،بزار نے فرمایا حدیث صحیح ہے۔