| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت معدان ابن طلحہ ۱؎ سے کہ ابو الدرداء نے انہیں خبردی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ افطارکردیا۲؎ فرماتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں حضرت ثوبان سے ملا میں نے کہا کہ حضرت ابوالدرداء نے مجھے خبر دی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ افطار فرمادیا فرمایا انہوں نے سچ کہا اور میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی انڈیلا۳؎(ابوداؤد،ترمذی،دارمی)
شرح
۱؎ آپ جلیل القدر تابعی ہیں،حضرت عمر حضرت ابوالدرداء و ثوبان سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ ۲؎ یعنی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے روزے میں عمدًا قے کی کسی ضرورت سے تو اسے روزے کا مفسد مانا جس کے بعد کھانا وغیرہ ملاحظہ فرمالیا۔ ۳؎ حضرت ثوبان حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں،انہوں نے حضرت ابوالدرداء کی تصدیق فرماتے ہوئے اپنا واقعہ بیان فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کو ناقض وضو بھی قرار دیا۔چنانچہ آپ نے وضو کیا اور پانی میں نے حاضر کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ منہ بھرکر قے روزہ بھی توڑ دیتی ہے اور وضو بھی،یہ ہی ہمارا مذہب ہے یہ حدیث ہمارے امام اعظم قدس سرہ کی دلیل ہے،امام شافعی کے ہاں قے سے وضو نہیں ٹوٹتا وہ یہاں وضو سے مراد کلی کرنا لیتے ہیں مگر قول امام اعظم قوی تر ہے بلاوجہ شرعی معنی چھوڑنا کمزورسی بات ہے۔