| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے روزہ کی حالت میں قے آجائے تو اس پر قضا نہیں اور جو جان کر قے کرے وہ قضا کرے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جسے ہم سوائے عیسیٰ ابن یونس کسی سے نہیں معلوم کرتے،امام محمد بخاری نے فرمایا کہ میں انہیں محفوظ نہیں جانتا ۲؎
شرح
۱؎ اسی پر چاروں اماموں کا عمل ہے کہ اگر کوئی شخص روزہ یاد ہوتے ہوئے عمدًا قے کرے تو روزہ جاتا رہے گا کیونکہ قے کا کچھ غیرمحسوس حصہ حلق میں واپس لوٹ جاتا ہے جس کا احساس نہیں ہوتا جیسے سونا وضو توڑ دیتا ہے کہ اس میں اکثر ریح نکل جاتی ہے مگر احساس نہیں ہوتا،ہاں امام ابو یوسف نے عمد کے ساتھ منہ بھر قے ہونے کی پابندی لگائی ہے مگر قے کردینے سے صرف قضا واجب ہوگی کفارہ نہ ہوگا۔قے کے پورے مسائل کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے۔ ۲؎ اراہ کی ضمیر کا مرجع حدیث ہے یعنی میں اس حدیث کو محفوظ نہیں جانتا۔خیال رہے کہ امام ترمذی و بخاری کو یہ حدیث غریب ہوکر ملی،اس کو حاکم ابن حبان،دارقطنی نے صحیح اسنادوں سے نقل فرمایا،حاکم نے فرمایا حدیث صحیح شرط شیخین ہے،دارقطنی نے فرمایا کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں،مؤطاء میں امام مالک نے حضرت ابن عمر پرموقوفًا روایت کی،نسائی وعبدالرزاق نے حضرت ابوہریرہ پر موقوفًا روایت کی،ابن ماجہ نے مرفوعًا نقل فرمائی جس کا مضمون و الفاظ اس سے کچھ متفاوت ہے،غرضکہ متن حدیث صحیح ہے۔