| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب کبھی زکوۃ مال میں مخلوط ہوگی تو اسے ہلاک ہی کردے گی ۱؎ (شافعی اور بخاری نے اپنی تاریخ میں)اور حمیدی نے یہ زیادتی بھی کی کہ فرمایا ایسا ہوتا ہے کہ تم پر زکوۃ فرض ہو اور تم نہ نکالو تو حرام حلال کو ہلاک کردے ۲؎ اسی حدیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے جو زکوۃ کو عین مال کے متعلق مانتے ہیں،یوں ہی منتقیٰ میں ہے۳؎ اوربیہقی نے شعب الایمان میں امام احمد بن حنبل سے روایت کی ان کی اسناد حضرت عائشہ تک ہے۔امام احمد نے مخلوط ہونے کے تفسیر یہ کی کہ کوئی شخص زکوۃ لے لے حالانکہ وہ خود مالدار غنی ہو زکوۃ تو غریبوں کے لیے ہے ۴؎
شرح
۱؎ مال میں زکوۃ مخلوط ہونے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ صاحبِ نصاب جس پر خود زکوۃ فرض ہو وہ فقیر بن کر لوگوں سے زکوۃ لے اور اپنے مال میں ملا کر بڑھائے۔دوسرے یہ کہ آدمی زکوۃ نہ نکالے جو مال زکوۃ میں نکلنا چاہیئے تھا وہ اپنے مال ہی میں رکھے،پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں اور دوسرے معنے زیادہ قوی۔ہلاک کرنے کی بھی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ زکوۃ کے مخلوط ہونے کی وجہ سے سارے مال کی برکت مٹ جائے اور کچھ دنوں میں مال ختم ہوجائے یا کوئی ناگہانی آفت آپڑے جس سے سارا مال برباد ہوجائے جیسے بیماری، مقدمہ،چوری،ڈکیتی یا حرق و غرق یعنی جلنا ڈوبنا۔دوسرے یہ کہ یہ سارا مال اگرچہ رہے تو مگر اس سے نفع لینا جائز نہ ہوکیونکہ حرام اور حرام سے مخلوط چیز ناقابل انتفاع ہے۔دوسرے معنے ہی کی بنا پر صاحب مشکوٰۃ کا آئندہ کلام ہے۔ ۲؎ قال کا فاعل امام بخاری ہیں یعنی حمیدی کہتے ہیں کہ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کی یہ شرح فرمائی۔ ۳؎ خیال رہے کہ امام شافعی وغیرہ فرماتے ہیں کہ زکوۃ مالک کے ذمہ میں واجب نہیں ہوتی بلکہ عین مال میں ہوتی ہے لہذا ان کے ہاں ہر مال کی زکوۃ اسی سے ادا کرنا پڑے گی۔اس کی قیمت یا اس قیمت کا دوسرا مال زکوۃ میں نہیں دیا جاسکتا،بکریوں کی زکوۃ میں بکری ہی دی جائے گی اور سونے کی زکوۃ میں سونا اور چاندی ہی۔وہ زکوۃ کو قربانی یا ہدی پر قیاس کرتے ہیں کہ ان کی قیمت نہیں دی جاتی۔(لمعات)ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک مال کی زکوۃ مالک کے ذمہ میں ہوتی ہے چاہے اس مال میں سے دے یا دوسرے مال میں سے یا قیمت حتی کہ سونے چاندی کی زکوۃ میں خودسوناچاندی یا اس کی قیمت یا اس قیمت کی روٹیاں، کوئی جانور،کپڑا،صابن وغیرہ دے سکتا ہے کیونکہ زکوۃ کا منشاء فقیر کو رزق پہنچانا اور اس کی حاجت روائی ہے، ان بزرگوں کا اس حدیث سے دلیل پکڑنا کچھ ضعیف ہی سا ہےکیونکہ ان حضرات نے لفظ خلط سے استدلال کیا ہے کہ خلط مال کا ہوتا ہے نہ کہ ذمہ کا مگر یہ ظاہر کے خلاف ہے اسی لیے خود صاحب مشکوٰۃ اگلا کلام فرمارہے ہیں۔ ۴؎ اس توجیہ نے حدیث کو بالکل واضح کردیا کہ جو مال زکوۃ بن کر امیر کے پاس سے نکل چکا اسے گویا غیرمستحق زکوۃ لے کر اپنے مال سے ملالے اب خلط کے معنے بالکل واضح ہوگئے۔