Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
213 - 5479
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 213
روایت ہے حضرت حفصہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو فجر سے پہلے روزہ کا ارادہ(نیت)نہ کرے اس کے روزے نہیں ہوتے ۱؎ (ترمذی ابوداؤد نسائی،دارمی)ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے معمر زبیدی ابن عیینہ اور یونس ایلی نے حضرت حفصہ پر موقوف کیا یہ تمام حضرات زہری سے راوی ہیں ۱؎
شرح
۱؎ یعنی روزے کی نیت رات سے کرنا چاہئیے صبح صادق سے پہلے تاکہ دن کا ہر حصہ روزے کی نیت سے گزارے۔یہاں اس سے مراد وہ روزہ ہے جو فرض ہو مگر مقرر نہ ہو جیسے رمضان کی قضا یا مطلق نذر کا روزہ نفلی روزہ اور معین فرض روزے کی نیت دن میں ضحویٰ کبرے سے پہلے ہوسکتی ہے کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ کبھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صبح کو تشریف لاتے تو فرماتے کچھ کھا نے کو ہے میں عرض کرتی کچھ نہیں تو فرماتے اچھا تو ہمارا روزہ ہے،نیز روایات میں ہے کہ ایک بار صبح کو رمضان کا چاند ہوجانے کی خبر ملی تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ابھی تک کچھ نہ کھایا پیا ہو وہ روزہ رکھ لے۔فقیر کی اس شرح پر یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں کہ وہاں نفلی روزہ ہے یا فرضی معین روزہ اور یہاں فرضی غیرمعین روزہ مراد ہے۔

۲؎ اس حدیث کے متعلق ترمذی نے فرمایا کہ نافع نے حضرت ابن عمر کا قول نقل کیا نسائی نے فرمایا کہ صحیح یہ ہی ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے،دارقطنی نے اسے مرفوعًا نقل کیا،امام نووی نے فرمایا کہ حدیث صحیح ہے بہت ہی اسنادوں سے مروی ہے۔
Flag Counter