۱؎ یعنی خیرات کرنے والے سخی کی زندگی بھی اچھی ہوتی ہے کہ اولًا اس پر دنیوی مصیبتیں آتی نہیں اور اگر امتحانًا آ بھی جائیں تو رب تعالٰی کی طرف سے اسے سکون قلبی نصیب ہوتا ہے جس سے وہ صبر کرکے ثواب کمالیتا ہے۔غرضکہ اس کے لیے مصیبت معصیت لے کر نہیں آتی مغفرت لے کر آتی ہے،معصیت والی مصیبت خدا تعالٰی کا غضب ہے اور مغفرت والی مصیبت اللہ کی رحمت لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سخیوں پر مصیبتیں آجاتی ہیں عثمان غنی جیسے سخی بڑی بے دردی سے شہید کئے گئے۔
۲؎ مَیْتَۃٌ مَوْتٌ سے بنا بیان نوعیت کے لیے اسے بروزن فعلۃ لائے تو میم کے کسرہ کی وجہ واؤ سے بدل گیا،بری موت سے مراد خرابی خاتمہ ہے یا غفلت کی اچانک موت یا موت کے وقت ایسی علامت کا ظہور ہے جو بعد موت بدنامی کا باعث ہو اور ایسی سخت بیماری ہے جو میت کے دل میں گھبراہٹ پیدا کرکے ذکر اﷲ سے غافل کردے،غرضکہ سخی بندہ ان تمام برائیوں سے محفوظ رہے گا،میرے پاک نبی سچے،ان کا رب سچا،اﷲ تعالٰی ان کے طفیل ہم سب کو سخاوت کی توفیق دے اور یہ نعمتیں عطا فرمائے۔