Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
133 - 5479
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 133
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن سلام سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو میں حاضرہوا ۲؎ جب میں نے چہرہ انور غور سے دیکھا تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ پاک کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں۳؎  پہلی بات جو حضور نے فرمائی یہ تھی کہ اے لوگو سلام کو پھیلاؤ اور کھانا کھلاؤ ۴؎ رشتے جوڑو سب لوگ سوتے ہوں تو نماز پڑھو سلامتی سے جنت میں چلے جاؤ ۵؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ آپ مشہو رصحابی ہیں،آپ کی کنیت ابویوسف ہے،یوسف علیہ السلام کی اولاد میں ہیں،علماء یہود میں سے ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے جنتی ہونے کی بشارت دی،مدینہ منورہ میں ۴۳ھ؁  میں وفات ہوئی،جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے تو آپ ایک باغ میں کھجوریں توڑ رہے تھے تشریف آوری کی خبر پاتے ہی بے تابانہ دوڑے ہوئے آئے کھجوریں گود ہی میں تھیں انہیں رکھنا بھی بھول گئے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور دیکھتے ہی دل میں ایمان آگیا۔

۲؎ باغ سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ پر زیارت کے لیے آئے تو دیکھا کہ اس شمع رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو پروانوں نے گھیرا ہواہے  ،لوگ فدا ہورہے ہیں

۳؎   غور سے دیکھنے کا مطلب  یہ ہے کہ میں نے  نبی آخر الزمان  صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ علامات جو توریت شریف میں مذکور ہیں آپ کے چہرے انور سے ملائیں تو بالکل موافق پائیں بال برابر فرق نہ تھا تب میں نے یقین کرلیا کہ آپ کا دعویٰ نبوت برحق ہے غلط نہیں۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب میں کسی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا مگر چونکہ کفار مکہ اور یہود مدینہ نے آپ کو جھٹلایا تھا اس لیے آپ یہ فرمارہے ہیں۔بعض علماء نے اس کے یہ معنے بیان کئے کہ میں نے فراست سے معلوم کیا کہ جھوٹ بولنے والے کا چہرہ ایسا نورانی نہیں ہوتا دل کی کیفیت چہرے پر ظاہر ہوتی ہے۔

۴؎  یعنی میں نے جو پہلی بات سنی وہ یہ تھی،چونکہ وہاں ہجوم عاشقاں تھا اس لیے الناس سے خطاب فرمایا۔ سلام پھیلانے کا مطلب یہ ہے کہ سلام کو رواج دو،اسلام سے پہلے ملاقات کے وقت سلام کا رواج نہ تھا "صبحك اﷲ بالخیر"وغیرہ کہتے تھے جیسے ہندوستان میں آداب عرض،گڈ مارننگ،بندگی،کورنش وغیرہ کہے جاتے تھے اسلام نے السلام علیکم کہنا سکھایا۔کھانا کھلانے سے مراد ہے مہمانوں،فقیروں،یتیموں کو کھانا دو۔بعض لوگوں نے کہا کہ سلام اونچی آوازسے کہو جو سامنے والا سن لے اور اپنے بچوں کو کھانا دو مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں۔

۵؎  یعنی قرابت داروں کے حق ادا کرو،ان حقوق کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔اور نماز پنجگانہ پر ہی قناعت نہ کرو بلکہ آخری رات میں جب عمومًا لوگ سوتے ہوتے ہیں تو تم نماز تہجد پڑھا کرو اگر تم نے ان چار باتوں پر عمل کرلیا تو عذاب و حجاب سے سلامت رہو گے اور جنت میں خیریت سے پہنچو گے جہاں تمہیں رب تعالٰی اورفرشتوں کی طرف سے سلام ہوا کریں گے۔ہماری اس شرح سے معلوم ہوا کہ بِسَلَامٍ کے دو معنے ہیں،چونکہ ابھی تک زکوۃ،روزہ،حج و جہاد کے احکام نہیں آئے تھے اس لیے ان کا ذکر نہ فرمایا لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
Flag Counter