Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
126 - 5479
حدیث نمبر 126
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جو کوئی باغ لگائے یا کھیت بوئے پھر اس سے آدمی یا چڑیاں یا جانور کچھ کھالیں مگر اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ عرب میں دستور تھا کہ باغ والے مسافروں کو دو ایک پھل توڑ لینے سے منع نہ کرتے جیسے ہمارے ہاں بھی چنے کا ساگ کاٹنے سے لوگ منع نہیں کرتے،مسافر بھی اس دستور سے واقف تھے وہ بھی چوری کی نیت سے نہیں بلکہ عرفی اجازت کی بنا پر دو چار دانے منہ میں ڈال لیتے تھے،نیز کبھی جانور کھیت پر سے گزرتے ہوئے سبزے میں ایک آدھ منہ مار دیتے ہیں سرکار نے ان سب کو مالک کے لیے صدقہ قرار دیا اس کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی کہ کبھی بغیر نیت بھی ثواب مل جاتاہے۔
Flag Counter