۱؎ بلکہ مال بڑھاتی ہے زکوۃ دینے والے کی زکوۃ ہر سال بڑھتی ہی رہتی ہے۔تجربہ ہے جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہر بوریاں خالی کرلیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے،گھر کی رکھی بوریاں چوہے،سسری وغیرہ آفات سے ہلاک ہوجاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صدقہ نکلتا رہے اس میں سے خرچ کرتے رہو ان شاءاﷲ بڑھتا ہی رہے گا،کنوئیں کا پانی بھرےجاؤ تو بڑھے ہی جائے گا۔
۲؎ یعنی جو بدلہ پر قادر ہو پھر مجرم کو معافی دے دے تو اس سے مجر م کے دل میں اس کی اطاعت اور محبت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر بدلہ لیا جائے تو اس کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑک جاتی ہے۔فتح مکہ کے دن کی عام معافی سے سارے کفار مسلمان ہوکر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع فرمان ہوگئے،معافی سے دلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں مگر معافی اپنے حقوق میں چاہیئے نہ کہ شرعی حقوق میں۔قومی ملکی،دینی مجرموں کو کبھی معاف نہ کرو اپنے مجرم کو معاف کردو۔
۳؎ انکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیٔ درجات ہے مگر بے غیرتی کی انکساری انکساری نہیں بلکہ احساس پستی ہے،جہاد میں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے ،مسلمان بھائی کے سامنے جھکنا ثواب"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ"۔