Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
114 - 5479
باب فضل الصدقۃ

باب صدقہ کی فضیلت  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ صدقہ صدق سے بنا،بمعنی سچائی،چونکہ خیرات سخی کے سچے مؤمن ہونے کی علامت ہے اس لیے اسے صدقہ کہتے ہیں۔مطلقًا صدقہ سے مالی خیرات مراد ہوتی ہے نفل ہو یا فرض یہاں وہ مراد ہے اگرچہ بعض بدنی اعمال کو بھی صدقہ کہا گیا ہے یعنی حکمی صدقہ۔
حدیث نمبر 114
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو حلال کمائی سے چھوارے کی برابر صدقہ کرے ۱؎ اﷲ تعالٰی صرف حلال ہی کو قبول کرتا ہے ۲؎ تو اﷲ اسے داہنے ہاتھ میں قبول کرتا ہے پھر صدقہ والے کے لیے اس کی ایسی پرورش کرتا ہی جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی حتی کہ پہاڑ کی طرح ہوجاتا ہے۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی معمولی سے معمولی چیز اﷲ کی راہ میں دے،عرب شریف میں کھجور معمولی چیز ہے،پھر اس کی قاش تو بہت ہی معمولی ہوئی۔

۲؎ یہ بہت ہی اہم قانون ہے کہ خیرات حلال کمائی سے کی جائے تب ہی قبول ہوگی،حتی کہ حج بھی طیب و پاک کمائی سے کرے۔یہاں دو قاعدے یاد رکھنا چاہئیں:ایک یہ کہ مال مخلوط سے اجرت،صدقہ،دعوت وغیرہ لینا جائز ہے،دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے ہاں اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کے ہاں پرورش پائی جن کا مال مخلوط تھا،اگر اس مال پر حرام کے احکام جاری ہوتے تو رب تعالٰی اپنے ان محبوبوں کو وہاں پرورش نہ کراتا۔دوسرا یہ کہ مال حرام دو قسم کا ہے:ایک وہ جو انسان کی ملکیت میں آتا ہی نہیں جیسے زنا کی اجرت،سود کا پیسہ اوربیع باطل کے معاوضے سور شراب وغیرہ کی قیمتیں۔دوسرا وہ کہ مالک کی ملک میں آجاتاہے اگرچہ مالک اس کاروبار پر گنہگار ہوتا ہےجیسے بیع بالشرط وغیرہ تمام فاسد بیعوں کی قیمت اور ناجائز پیشوں(گانے،بجانے،داڑھی مونڈنے وغیرہ)کی اجرت۔پہلی قسم کا حرام کسی کے قبضہ میں پہنچے حرام ہی رہے گاکیونکہ پہلا شخص ہی اس کا مالک نہ بنا اور دوسری قسم کا حرام دوسرے کی ملک میں پہنچ کر اس کے لیے حلال ہوگا۔وہ جو فقہاء فرماتے ہیں کہ جس کے پاس حرام یا مشکوک پیسہ ہو وہ دوسرے سے قرض لے کر حج یا صدقہ کرے اور اپنے مال سے وہ قرض ادا کردے اس سے مراد یہی آخری حرام ہے کیونکہ ملک بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں"لَھَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ھَدْیَۃٌ۔

۳؎  داہنے ہاتھ میں قبول کرنے سے مراد راضی ہوکر قبول فرماتاہے اور مطلب یہ ہے کہ مال و نیت خیر کا صدقہ رضائے الٰہی کا باعث ہے اور وہ صدقہ کے وقت سے لے کر قیامت تک بھاری ہوتا رہے گا حتی کہ میزان میں سارے گناہوں پر غالب آجائے گا جیسے اچھی زمین میں بوئی ہوئی ادرک آلو وغیرہ۔اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے "یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ"۔
Flag Counter