Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
102 - 5479
حدیث نمبر 102
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی بولا میں خیرات کروں گا ۱؎ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو کسی چور کے ہاتھ میں دے دیا ۲؎ لوگ صبح کو چرچا کرنے لگے کہ آج رات چور کو خیرات دی گئی وہ بولا الٰہی تیرا شکر ہے چور پر صدقہ۳؎ اب پھر صدقہ کروں گا وہ اپنا صدقہ لےکر نکلا تو  ایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا ۴؎  لوگ صبح کو چرچا کرنے لگے کہٍ آج رات زانیہ کو صدقہ دیاگیا۵؎ وہ بولا الٰہی تیرا شکر ہے کیا زانیہ کو خیرات میں اور صدقہ کروں گا پھر وہ اپنا صدقہ لے کر  چلا تو کسی مالدار کے ہاتھ میں دے دیا ۶؎ لوگ صبح کو چرچا کرنے لگے کہ آج رات غنی کو صدقہ دیا گیا ۷؎ وہ بولا الٰہی تیرا شکر ہی ہے کیا چور پر زاینہ پر اور غنی پر ۸؎  اسے جواب میں کہا گیا کہ الٰہی تیری رحمت  خیرات چور پر تو شاید وہ چور چوری سے باز رہے لیکن زاینہ تو شاید وہ زنا سے باز رہے لیکن غنی تو شاید وہ عبرت پکڑے اور اللہ کے دیئے میں سے کچھ خیرا ت کرے ۹؎(مسلم،بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔
شرح
۱؎ یعنی تم سے پہلے ایک بنی اسرائیلی نے اپنے دل میں کہا یا اپنے دوستوں یا گھر والوں پر اپنا یہ ارادہ ظاہر کیا یارب تعالٰی کی بارگاہ میں عرض کیا کہ آج میں خیرات دوں گا۔ظاہر یہ ہے کہ خیرات سے نفلی صدقہ مراد ہو۔ممکن ہے اس نے کوئی نذر مانی ہو جس کے پورا کرنے کا ارادہ کیا۔

۲؎  یعنی رات کے اندھیرے میں اکیلے میں ایک شخص کو فقیر جان کر وہ خیرات دے دی، اس نے لوگوں میں پھیلا دیا کہ مجھے ایک آدمی خیرات دے گیا جیسا کہ آوارہ لوگوں کا طریقہ ہے کہ دھوکا دینے پر فخر کرتے ہیں اور دھوکا کھا نے والے کا مذاق اڑاتے ہیں،اس کا لوگوں میں چرچا ہوگیا۔مرقات نے فرمایا ممکن ہے کہ لوگوں کو یہ خبر الہام الٰہی سے معلوم ہوئی ہو اور ہوسکتا ہے کہ کوئی فرشتہ شکل انسانی میں آکر لوگوں سے یہ کہہ گیا ہو،غرضکہ اس کا چرچا ہوگیا۔

۳؎ یہ کلمہ تعجب کا ہے یعنی وہ شخص صدقہ ضائع ہونے پر دل تنگ نہیں ہوا بلکہ خدا کا شکر ہی کیااور تعجب کے طور پر یہ کہا اﷲ کے مقبول بندے مصیبت پر بھی شکر ہی کرتے ہیں۔

۴؎ یعنی میرا وہ صدقہ تو بیکار گیا کیونکہ صحیح مصرف پر نہ پہنچا جیسے کھاری زمین میں دانہ اس کی جگہ اور صدقہ دوں گا۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر صدقہ صحیح جگہ نہ پہنچے تو واپس نہ لے بلکہ اس کی بجائے اور صدقہ دے چونکہ آج بھی صدقہ چھپانے کے لیے اندھیری رات ہی میں نکلا تھا اس لیے ایک فاسِقہ زاینہ عورت کو مسکین جان کر خیرات دے دی اور دھوکا کھا گیا۔

۵؎ اس چرچا کی وجہ ابھی بیان کردی گئی کہ یا خود زانیہ نے ہی لوگوں میں پھونکا یا فرشتہ کے ذریعہ اس کا اعلان ہوگیا۔

۶؎ اسے فقیر سمجھ کر یہ مالدار کوئی کنجوس تھا جو پھٹے پرانے کپڑے پہنے تھا اور حریص بھی کہ جانتے ہوئے خیرات لے لی جیساکہ آج کل بھی کنجوسوں کو دیکھا جاتا ہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ دینے والے نے دھوکا کیسے کھایا اور لینے والے نے غنی ہونے کے باوجود خیرات لے کیوں لی۔موجودہ زمانہ کے حالات دیکھتے ہوئے ان اعتراضوں کی گنجائش ہی نہیں۔

۷؎  ظاہر یہ ہے کہ غنی نے خود کسی سے نہ کہا ہوگا کہ کنجوس حریص لوگ ان باتوں کا چرچا نہیں کرتے بلکہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں،یہ اعلان فرشتہ ہی کے ذریعہ ہوا ہوگا۔

۸؎  یعنی مولے میں کیا صورت کروں کہ صدقہ صحیح جگہ پہنچے،تین دفعہ خیرات کرچکا ہر بار بیکار ہی گئی۔

۹؎ خلاصہ یہ ہے کہ تیرے یہ تینوں صدقے کار آمد ہیں کوئی بیکار نہ گیا،چور اور زانیہ کے لیے تو گناہوں سے بچنے کا ذریعہ بنے گا اور غنی کے لیے سخاوت کی تبلیغ ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر غلطی سے زکوۃ غیر مصرف پر خرچ کردی جائے مثلًا کسی کو فقیرسمجھ کر زکوۃ دی پھر پتہ لگا وہ غنی ہے تو زکوۃ ادا ہوجائے گی اس کا اعادہ واجب نہیں،طرفین کا یہی قول ہے ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کیونکہ یہاں اسے چوتھی بار صدقہ دینے کا حکم نہیں دیا گیا مگر تمام آئمہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں صدقہ واپس نہ لے،ہاں اس میں اختلاف ہے کہ خود لینے والے کو یہ مال حلال ہے یا نہیں۔قوی یہ ہے کہ اگر اس نے غلطی سے لے لیا ہے تو حلال ہے،دانستہ لیا ہے تو حرام،اس کی دلیل حضرت معن ابن یزید کی وہ حدیث ہے جو بخاری نے روایت کی کہ فرماتے ہیں میرے والد نے صدقہ کے کچھ دینار مسجد میں رکھے میں نے اٹھا لیے،پھر یہ واقعہ بارگاہ نبوی میں پیش ہوا تو حضور علیہ ا لسلام نے ارشاد فرمایا اے یزید تمہارے لیے تمہاری نیت اور اے معن جو تم نے لیا وہ تمہارا ہے۔(فتح القدیرو مرقات)
Flag Counter