Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
101 - 5479
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 101
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم سب میں پہلے آپ سے کون ملے گی ۱؎ فرمایا تم میں لمبے ہاتھ والی۲؎ انہوں نے بانس لے کر ہاتھ ناپنے شروع کردیئے۳؎ تو حضرت سودہ دراز ہاتھ نکلیں بعد میں معلوم ہوا کہ درازیٔ ہاتھ سے مراد صدقہ خیرات تھی ہم سب میں پہلے حضور کے پاس زینب سدھاریں اور وہ سرکار خیرات بہت پسند کرتی تھیں۴؎(بخاری)مسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے پہلےمجھے وہ ملے گی جو لمبے ہاتھ والی ہو فرماتی ہیں کہ ازواج پاک جھگڑتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں فرماتی ہیں ہم سب میں لمبے ہاتھ والی زینب ہی ہیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتی تھیں اور خیرات کرتی تھیں۵؎
شرح
۱؎ یہ سوال چند سوالوں کا مجموعہ ہے:ایک یہ کہ ہم میں سے ہر ایک کا وقت موت کب ہے۔دوسرے یہ کہ ہم سب کی موت کس حال میں ہوگی ایمان پر اور ایمان کے کس درجہ پر۔تیسرے یہ کہ ہماری بقیہ زندگی تقویٰ کے کس درجہ پرگزرے گی۔چوتھے یہ کہ بعد وفات ہمارا مقام کہاں ہوگاکیونکہ بعد وفات حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی مل سکتا ہے جس کا خاتمہ ایمان پر ہو زندگی اعلیٰ درجے کے تقویٰ اور طہارت پر گزرے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ازواج مطہرات کا یہ عقیدہ تھا کہ اﷲ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو علوم خمسہ عطا فرمائے ہیں کہ سرکار بعطائے الٰہی ہر ایک کا وقت موت بھی جانتے ہیں اور ہر ایک کی سعادت و شقاوت سے بھی خبردار ہیں اور ہر ایک کے درجہ ایمان و مرتبہ تقویٰ سے بھی واقف ہیں بلکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بعد موت کس کا کیا درجہ ہوگا اور کون کہاں رہے گا کیوں نہ ہوتا کہ ان بیبیوں نے دیکھا تھا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر سے ایک دن پہلے زمین پر خط کھینچ کر بتا دیا تھا کہ کل فلاں کافر یہاں مارا جائے گا اور فلاں یہاں۔دوسرے یہ کہ ازواج پاک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد موت کی ایسی مشتاق تھیں جیسےعروس برات کی کیونکہ ان کے لیے موت لقائے حبیب کا ذریعہ تھی۔شعر

آج پھولے نہ سمائیں گے کفن میں عاصی          	جس کے جویاں تھے ہے اس گل کے ملاقات کی رات

جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے           	کہ    یہاں    مرنے    پہ    ٹھہرا    ہے    نظارہ   تیرا

۲؎ یعنی اے پاک بیبیو! تم سب ہی اعلیٰ تقویٰ پر جیو گی،کمال ایمان پر وفات پاؤ گی اور تم سب میرے ساتھ رہو گی مگر سب سے پہلے میرے پاس تم میں سے وہ پہنچے گی جو زیادہ سخی ہوگی۔اس جواب سے معلوم ہوا کہ مؤمن کامل مرتے ہی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے،وصال بعد قیامت پر موقوف نہیں،نیز معلوم ہوا کہ جو بعد موت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہے وہ زندگی میں نیک اعمال اور صدقہ و خیرات زیادہ کرے۔

۳؎  یہ ہوئی خطائے اجتہادی،وہ بیبیاں یہ سمجھیں کہ ہاتھ سے یہ جسم کا ہاتھ مراد ہے ان بیبیوں نے اپنے ہاتھ خود ناپے تھے مگر تعظیم و احترام کے لیے اَخَذُوا جمع مذکر فرمایا گیا جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:" وَ کَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیۡنَ"اور شاعر کہتا ہے"اِنْ شِئْتِ حَرَّمْتُ النِّسَاءَ سِوَاکُمْ"قانتین بھی مذکر ہے اور کُمبھی۔

۴؎ یعنی جسم کا ہاتھ تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا دراز تھا مگر سخاوت کا حضرت زیبت بنت جحش رضی اللہ عنہا کا لمبا تھا،حضرت زینب کی وفات    ۲۱ھ؁  میں ہوئی،آپ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں اور حضرت سودہ کی وفات   ۲۴ھ؁  میں اور عائشہ صدیقہ کی وفات  ۵۷ھ؁ میں ہے۔(مرقات ولمعات)

۵؎  چنانچہ اپنے ہاتھ سے کھالیں رنگتی تھیں انہیں بیچتی تھیں اور قیمت خیرات کردیتی تھیں،یہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ ازواج مطہرات کا نان نفقہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذمہ ہے کیونکہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں ہیں لہذا حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا یہ محنت کرنا اپنے خرچ کے لیے نہ تھا بلکہ راہِ خدا عزوجل میں خیرات کرنے کے لیے تھا،ان کا خیال تھا کہ اپنی محنت کا پیسہ خیرات کرنا زیادہ لائق ثواب ہے۔
Flag Counter