۱؎ یعنی وفات شریف کے قریب جب یہ آیت کریمہ اتری"فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ"تو آپ نوافل خصوصًا تہجد کے رکوع سجدے میں یہ پڑھاکرتے تھے۔ظاہریہی ہے کہ یہ دعائیں نوافل میں تھیں کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرائض مسجد میں پڑھاتےتھے۔اس وقت عائشہ صدیقہ آپ سے بہت دورہوتی تھیں،ہاں تہجد وغیرہ نوافل گھر میں پڑھتےتھے اس لیے آپ بخوبی یہ سب کچھ سن لیتی تھیں۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کااپنےلیے دعائے بخشش کرناتعلیم امت کےلیےتھایا اس لیے کہ استغفاربھی عبادت ہے اوربلندیٔ درجات کا ذریعہ،ورنہ آپ گناہوں سے معصوم ہیں۔