Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
814 - 993
حدیث نمبر814
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ بیمار کے پاس کم بیٹھنا اورکم شورکرنا سنت ہے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کی آوازیں اور اختلاف بڑھ گیا تو فرمایا ہمارے پاس سے اٹھ جاؤ ۲؎(رزین)
شرح
۱؎ کیونکہ تمہاری وجہ سے اس کی تیمار دارعورتیں پردے میں رہیں گی اور دوسروں سے وہ بے تکلف بات چیت نہ کر سکے گا،نیز تمہارے شور سے اسے تکلیف ہوگی اس لیے اس کے پاس کم بیٹھو یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جومحض بیمار پرسی کے لیے جائیں تیمارداری نہ کریں۔

۲؎ واقعہ یہ تھا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریف سے چار دن پہلے یعنی جمعرات کے دن صحابہ کرام دولت خانہ میں حاضر تھے،فرمایا قلم دوات اور کاغذ لاؤ میں تمہیں کچھ لکھ دوں تاکہ تم میرے بعد بہک نہ سکو،بعض صحابہ سمجھے کہ یہ امر ہے ا سکی اطاعت واجب ہے اور بعض نے خیال کیا کہ یہ مشورہ ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم تبلیغی احکام سارے پہنچا چکے،امت پر شفقت کے لیے فرمارہے ہیں،مرض کی شدت زیادہ ہے اب آپ کو لکھنے کی تکلیف نہ دی جائے اس اختلاف رائے کی بناء پرمجموعی آوازیں اونچی ہوگئیں تب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔اس کی پوری تحقیق ان شاءاﷲ آگے ہوگی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ سرکارحضرت علی مرتضیٰ کے لیے خلافت لکھنا چاہتے تھے مگر جناب عمرنے تحریر نہ ہونے دی،نیز صحابہ کرام کی بارگاہ نبوی میں آوازیں اونچی ہوگئیں اس سے نعوذ باﷲ وہ مرتد بھی ہوگئے اور ان کے اعمال بھی ضبط ہوگئے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ(الایۃ)اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ"مگر یہ دونوں باتیں غلط ہیں پہلی اس لیے کہ خود جناب علی مرتضیٰ نے ابوبکر صدیق کی بیعت کرتے وقت سب کے سامنے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق سے راضی تھے کہ میرے ہوتے انہیں امامت کے لیے مصلےٰ پرکھڑا کیا،نیزحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے دباؤ سے حق نہ چھپایا تو یہاں بعض کے کہنے پر آپ کیسے خاموش رہ سکتے تھے،نیز اس واقعہ کے چار دن بعدوفات شریف ہوئی اس دوران میں تحریر کیوں نہ فرمادی،نیز حضرت حسین نے ناجائزخلیفہ یزید کی بیعت نہ کی سَر دے دیا تو حضرت علی مرتضٰی ناجائز خلیفہ کی بیعت کیسے کرسکتے تھے حالانکہ ابوسفیان نے علی مرتضٰی سے اس وقت عرض کیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو ابوبکر کے مقابلے میں آپ کے لیے میں لشکر سے جنگل بھردوں تو جناب علی نے انہیں ڈانٹ دیا۔(ازمرقات وغیرہ)دوسرا اعتراض اس لیے غلط ہے کہ اس کی زد میں حضرت علی وغیرہم بھی آجائیں گے کیونکہ یہ شور تو سب کی گفتگو سے مچا،نیز نہ رب تعالٰی نے ان حضرات پرعتاب فرمایا نہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آوازہونا منع نہیں،صحابہ کرام تلبیہ میں،تکبیرتشریق میں،اذان و اقامت میں اونچی آوازیں کرتے ہی تھے،دوران وعظ میں نعرہ تکبیر لگاتے تھے،بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آوازیں اونچی کرنا جس سے سرکار کی آواز دب جائے یہ ممنوع ہے،یہاں سب کی آوازیں ہلکی تھیں مگر بہت سی ہلکی آوازیں مل کرشور کی شکل اختیارکرلیتی ہیں۔
Flag Counter