Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
812 - 993
حدیث نمبر812
روایت ہے حضر ت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی عیادت نہ کرتے مگر تین دن کے بعد ۱؎(ابن ماجہ)بیہقی نے فی شعب الایمان۔
شرح
۱؎ کیونکہ تین دن سے پہلے طبیعت خود مرض کو دفع کرتی ہے اسی لیے عام بیماریوں میں پہلے دن ہی علاج نہیں کرتے تین دن بعد شروع کرتے ہیں۔لمعات میں ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے،مرقات میں ہے کہ حدیث بہت ضعیف ہے کیونکہ یہ صرف مسلمہ ابن علی سے مروی ہے اور وہ محدثین کے نزدیک متروک ہیں،ابوحاتم نے فرمایا کہ یہ روایت باطل ہے۔حق یہ ہے کہ بیمار پرسی پہلے دن ہی کرنی چاہیے کیونکہ حدیث صحیح میں ہے"عُوْدُ االْمَرِیْضَ"اس میں مطلقًا عیادت کا ذکر ہے،امام سیوطی نے جامع صغیر میں فرمایا کہ حضرت انس کی یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے مگر دیگر روایات سے اسے قوت پہنچ گئی ہے،لہذا اس کے معنی یا تو یہ ہیں کہ آپ کبھی تیسرے دن بیمار پرسی کرتے تھے اس پہلے لوگوں سے اس بیمار کے حالات پوچھے رہتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ صحابہ تین دن تک اپنا مرض ظاہر ہی نہ کرتے تھے یا یہ مطلب کہ بیمار پرسی میں تین دن تک کی تاخیرجائزہے اس سے پہلے عیادت کرنا مستحب،یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے اور وہ فرمان استحباب کے لیے یا یہ مطلب ہے کہ معمولی بیماریوں میں تین دن کے بعد بیمار پُرسی کرتے تھے اورسخت میں پہلے دن۔
Flag Counter