۱؎ یعنی اولًا آپ مرض کی جگہ انگلی رکھتے پھر انگلی پر کچھ لعاب شریف لگاکر مٹی لگاتے،پھر اس کا لیپ مرض کی جگہ کر دیتے اور یہ فرماتے جاتے کہ بفضلہٖ تعالٰی ہمارا لعاب اور مدینہ کی مٹی شفاہے۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ بیماری پر ٹوٹکے اور منترجائز ہیں بشرطیکہ اس کے الفاظ کفریہ نہ ہوں اورکوئی کام حرام نہ ہو،اس کی اصل یہ حدیث بھی ہے اور وہ بھی کہ نظر بدمیں نظر والے کے ہاتھ پاؤں کو دھلاکر بیمارکو چھینٹا مار دو،شامی نےنظر اور جادو دفع کرنے کے بہت ٹوٹکے بیان فرمائے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب شریف شفا ہے،بعض صوفیاء دم کرتے وقت کچھ لعاب بھی ڈال دیتے ہیں،اس کی اصل یہ حدیث ہے۔تیسرے یہ کہ مدینہ پاک کی مٹی شفا ہے وہاں کی خاک کو جو خاک شفا کہا جاتا ہے،اس کی اصل یہ حدیث ہے،مرقاۃ میں فرمایا کہ وطن کی خاک بھی شفا ہوتی ہے اگر کوئی مسافر اپنے وطن کی مٹی پردیس لے جائے جس میں تھوڑی پینے کے گھڑے میں ڈال دیا کرے تو ان شاءاﷲ وہاں کا پانی نقصان نہ دے گا۔