۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالٰی کا ایسا نام لینا جو قران میں نہ ہو جائز ہے بشرطیکہ اس کے معنی خراب نہ ہوں،اس کی اصل قرآن مجید میں موجود ہو،شافی قرآن کے اسمائے الہیہ میں سے نہیں مگر اس کی اصل موجود ہے"فَہُوَ یَشْفِیۡنِ"۔
۲؎ یہ "اَنْتَ الشَّافِیْ"کی تفسیر ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ ہمیشہ کامل نعمت کی دعا مانگو یعنی وہ شفا دے جو بیماری اور کمزوری سب کچھ دورکردے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ بیمار پر ہاتھ پھیرنا بھی سنت ہے تاکہ کلام کی برکت کے ساتھ ہاتھ کی برکت بھی مریض کو پہنچے،یہ حدیث صوفیاء کے اس عمل کی اصل ہے۔