| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ہنستا نہ دیکھا کہ آپ کے جبڑے شریف دیکھ لیتی ۱؎ آپ صرف مسکرایا کرتے تھے آپ جب بادل یا ہوا دیکھتے تو آپ کے چہرے میں اثر خوف معلوم ہوتا۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ لَھْوَات لُھَات کی جمع ہے۔لہات زبان کی جڑ کوبھی کہتے ہیں،حلق میں ابھرے ہوئے گوشت کوبھی،جبڑے کے آخری کنارے کوبھی،یعنی آپ ایسا کبھی نہ ہنسے جس سے آپ کا منہ مبارک کھل جاتا۔ ۲؎ یعنی بادل یا تیز ہوا ہونے پرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور پرخوف کے آثار ظاہرہوتے کہ ایسا نہ ہوکہ آندھی یا بارش سے لوگوں کو نقصان پہنچے جس قدر رب تعالٰی سے قرب زیادہ اسی قدر خوف زیادہ۔