روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پروا کے ذریعے میری مدد کی گئی اوربچھوا کے ذریعہ قوم عاد ہلاک کی گئی ۱؎(مسلم،بخاری)
۱؎ صبا وہ ہوا ہے جومشرق سےمغرب کو چلے،یہ تیز ہوتی ہے اکثر بارش لاتی ہے۔اور دبورہوا وہ ہے جومغرب سے مشرق کو جائے،یہ گرم وخشک ہوتی ہے،زمین کو خشک کرتی ہے اور اکثر بادل کو پھاڑ دیتی ہے،بارش کو دورکرتی ہے۔غزوہ خندق میں جب سارے کفارعرب نے مدینہ پاک کوگھیر لیا تھا تو ایک رات پروا ہوا تیز چلی جس سے کفار کے خیمے اڑ گئے،دیگچیاں ٹوٹ گئیں،جانور بھاگ گئے،ان کے منہ مٹی ریت سے بھرگئے آخر کار سب کو بھاگنا پڑا۔اہل مدینہ کو امن ملی اورہود علیہ السلام کی قوم عادبچھوا سے ہلاک ہوئی،اس حدیث میں اسی جانب اشارہ ہے۔غرضکہ ہوا وپانی کفار کے لیے عذاب،مومن کے لیے رحمت ہوجاتے ہیں،دریا نیل کا پانی قبطیوں پر عذاب،سبطیوق پر رحمت تھا۔