| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی وفات پاگئیں تو آپ سجدہ میں گر گئے ۱؎ آپ سے کہا گیا کہ کیا اس گھڑی سجدہ کرتے ہیں تو فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے تشریف لے جانے سے بڑی کون سی نشانی ہے ۲؎(ابوداؤد،ترمذی)
شرح
۱؎ یہ سجدہ ہیبت کا تھا کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور بیویاں زمین والوں کے لیے امن ہیں،ان کی وفات امن کا اٹھناہے اور ان کا جانا مصیبتوں کا آناہے۔خیال رہے کہ یہ بی بی صاحبہ حضرت صفیہ ہیں،بعض نے کہا کہ حضرت حفصہ مگر پہلا قول قوی ہے اورعکرمہ حضرت ابن عباس کے غلام ہیں عکرمہ ابن ابوجہل اور ہیں۔ ۲؎ مرقات ولمعات نے اس جگہ فرمایا کہ یہ حضرات بابرکت ہیں جن کے وسیلہ سے عذاب دور رہتاہے،رب کی رحمتیں آتی ہیں،ان کی وفات پر ذکر اﷲ تعالی،نوافل اورسجدے زیادہ کروکیونکہ ان کی حیات کی برکت تو جاتی رہی اب اﷲ کے ذکر کی برکت سے عذاب دور ہے۔خیال رہے کہ ازواج مطہرات کی وفات کی طرح سورج گرہن بھی اﷲ کی نشانی ہے،لہذا اس وقت بھی ذکرونفل اورسجود چاہیئے اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔