۱؎ خطبہ کے لغوی معنی ہیں لوگوں سے خطاب کرنا۔شریعت میں اس کلام کو خطبہ کہا جاتا ہے جس میں شہادتیں،نصیحتیں وغیرہ ہوں۔خطبہ جمعہ کی نماز کے لیئے شرط ہے،عیدین کے لیئے سنت،نکاح وعظ سے پہلےبھی سنت ہے۔مسنون یہ ہے کہ خطبہ جمعہ نماز سے کم ہو،عربی کے سوا اور زبان میں اذان،تکبیر،خطبہ پڑھنا بدعت قبیحہ ہے کیونکہ خلفائے راشدین نے فارس،روم اورحبشہ وغیرہ ایسے ملک فتح کیئے جہاں کی زبان عربی نہ تھی لیکن کہیں ثابت نہیں کہ ان ملکوں میں یہ چیزیں غیرعربی میں پڑھی گئی ہوں۔خطبہ سے مراد صرف وعظ ونصیحت مرادنہیں تاکہ سامعین کاسمجھنا ضروری ہوبلکہ اس کا مقصود اﷲ کا ذکرہے جس کے لیئے زبان عربی موزوں ہے۔قرآن کریم نے خطبہ کو ذکر اﷲ فرمایا وعظ نہیں کہا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِاللہِ"۔سامعین کو وعظ خطبہ سے پہلے سنالو،خطبہ میں فارسی یا اردو داخل کرکے شعار اسلامی کیوں بگاڑتے ہو۔