۱؎ حقًا اگر وجوب کیلئے ہے تو منسوخ ہے کہ شروع میں جب مسلمانوں پرغریبی بہت تھی،موٹا پہنتے تھے،دھوپ میں کا م کرتے تھے تب جمعہ کا غسل فرض تھا،پھر فرضیت منسوخ ہوگئی،سنت باقی ہے اور اگر سنت مراد ہے تو حدیث محکم،بعض علماء کے نزدیک غسل جمعہ ہرمسلمان کے لیئے سنت ہے نماز کو آئے یا نہ آئے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے مگر یہ دلیل کمزور ہے کیونکہ یہاں خطاب جمعہ پڑھنے والوں کے لیئے ہے،نیز ان کے ہاں بھی جمعہ نہ پڑھنے والوں کے لیئے خوشبو لگانا سنت نہیں۔
۲؎ یعنی ا گر عطر خریدنے کی طاقت نہ ہو مگر اس کی تمنا ہو تو اسے غسل میں ہی اس کا ثواب بھی مل جائے گا۔مقصد یہ ہے کہ عطرکسی سے مانگو مت گھر میں ہو تو لگا لو ورنہ خیر۔