۱؎ آپ کا نام رفاعہ ہے،انصاری ہیں،اوسی ہیں،بیعت العقبہ میں حاضر ہوئے،بدر میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مدینہ میں رہے،غنیمت میں آپ کا حصہ رکھا گیا،خلافت مرتضوی میں وفات پائی۔(اکمال)
۲؎ چنانچہ اگر حج جمعہ کو ہو تو اس کا ثواب سترحجوں کا ہے اور حج اکبر کہلاتا ہے اور اگر شب قدر جمعہ کی شب میں ہو تو بہت برتر ہے۔خیال رہے کہ یہاں کلی فضیلت کا ذکر ہے,جزئی فضیلت عیدین کو اس پر حاصل ہے۔خیال رہے کہ یہاں دنوں کا مقابلہ ہے ورنہ شبِ قدر تمام دن راتوں سے بہت بہتر ہے یعنی دن جمعہ سب دنوں سے افضل ہے،لہذا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں۔
۳؎ حرام یا تو حلال کا مقابل ہے یعنی اس ساعت میں ناجائز دعائیں قبول نہیں ہوتیں یا بمعنی ممنوع اور ناممکن ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ"یعنی ناممکن دعا قبول نہیں ہوتی بلکہ ناممکن دعا مانگنا بھی جائز نہیں جیسے کوئی کہے خدایا تو مجھے نبی یا فرشتہ بنادے۔(مرقاۃ)بہتر ہے کہ اس ساعت میں جامع دعا مانگے جیسے"رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ"۔
۴؎ اس کے فوائد پہلے بیان کیئے جاچکےہیں۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ غافل انسان حیوانات،جمادات سےبھی بدتر ہے کہ وہ جمعہ جیسا برکت والا دن غفلت میں گزارتا ہے۔مقرب فرشتوں کو اس دن خوف طبعی ہوتا ہے۔خیال رہے کہ یہاں پانچ کا ذکر حصر کے لیئے نہیں۔جمعہ کے فضائل بے شمار ہیں جن میں سے بہت کچھ ہم نے اپنی تفسیر میں بیان کیئے۔اس جگہ مرقاۃ نے بھی بہت کچھ بیان کیا۔