۱؎ یہ سفر مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کی طرف فتح مکہ کے لیئے تھا۔(اشعۃ اللمعات)اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں پندرہ دن کی نیت سے مقیم نہ ہوئے تھے یہی ارادہ رہا کہ آج جائیں کل جائیں اور اتفاقًا انیس روز گزر گئے اس لیئے قصر ہی کرتے رہے۔چنانچہ عبدالرزاق نے اپنی مسند میں،امام محمد نے کتاب الاثار میں حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ ہم ایک دفعہ آذربائیجان میں برف میں گھر گئے تو چھ ماہ وہاں ٹھہرے مگر قصر ہی پڑھتے رہے،نیز حضرت انس عبدالملک ابن مروان کے ساتھ شام میں ایک جگہ دو مہینہ تک ٹھہرے قصر ہی پڑھتے رہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر مسافر بلا ارادہ کسی جگہ مہینوں ٹھہرجائے تو قصر ہی پڑھے گا۔
۲؎ یہ حضرت ابن عباس کا اجتہاد ہے جو انہوں نے فتح مکہ کے واقعہ سے کیا۔ظاہریہ ہے کہ بعد میں اس پرعمل چھوڑدیا کیونکہ طحاوی میں انہی سے روایت آتی ہے کہ اگر تم سفرمیں پندرہ دن قیام کی نیت کرو تو نماز پوری کرو ورنہ قصر۔ابن حجر شافعی فرماتے ہیں یہ انیس دن کا قول صرف ابن عباس کاہے اس میں کوئی فقیہ ان کے ساتھ نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واقعہ غزوہ طائف یا غزوہ حنین میں تھا اور ظاہر ہے کہ غازی ہر وقت فتح کا منتظر رہتا ہے کہ کب فتح ہو اور کب لوٹوں،لہذا اس واقعہ سے استدلال قوی نہیں۔(مرقاۃ)