۱؎ یعنی جاتے آتے رستہ میں بھی اور مکہ مکرمہ میں بھی کیونکہ وہاں آپ نے مکہ معظمہ میں پندرہ دن قیام کی نیت نہ فرمائی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسافر رستہ میں قصر ہی کرے گا اتمام نہیں کرسکتا،ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی تو سفر میں ایک آدھ بار اتمام کرکے دکھاتے۔سرکار ابدقرار صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم امت کے لیئے کبھی مکروہات پر بھی عمل کیا۔
۲؎ معلوم ہوا کہ دس دن کے قیام پر نماز پوری نہ کی جائے گی بلکہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت پر،جیسا کہ طحاوی شریف میں حضرت عبداﷲ ابن عباس سے روایت ہے کہ اگر تم کہیں پندرہ دن قیام کی نیت کرو تو پوری پڑھو،ورنہ قصر کرو،اس کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔خیال رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھی ذی الحجہ کی صبح کو حج سے فارغ ہو کر وہاں سے واپس ہوئے۔یہ حدیث امام شافعی کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ان کے ہاں چار دن کے قیام پر نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔