۱؎ یعنی بلند آواز سے کہتے اور دراز کرتے۔اس حدیث کے ماتحت لمعات و مرقاۃ وغیرہ میں ہے کہ ذکر بالجہر بہت اعلیٰ چیز ہے بشرطیکہ ریاء سے خالی ہو کہ اس میں غافلوں کو ہوشیار کرنا ہے،سوتوں کو جگانا ہے،شیطان کو بھگانا ہے اور جہاں تک آواز پہنچے وہاں تک کے جانوروں درختوں اینٹ پتھروں کو اپنے ایمان پر گواہ بنانا ہے۔جن احادیث میں ذکر بالجہر سے ممانعت آئی ہے اس سے وہ جہر مراد ہے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو یا ذاکر میں ریا ہو۔خیال رہے کہ بعض ذکروں میں جہر شرط ہے جیسا اذان تلبیہ اور بقرعید کے زمانہ میں نمازوں کے بعد تکبیر تشریق وغیرہ۔