۱؎ یعنی تیسری رکعت میں یہ تینوں سورتیں پڑھتے تھے۔خیال رہے کہ یہ حدیث امام اعظم نے اپنی مسند میں یوں نقل کی ہے "عَنْ حَمَّادٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ اَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ صِدِّیْقَۃَ"۔اس میں صرف قُلْ ھُوَ اﷲُ کا ذکر ہے اور حاکم نے بشرط مسلم،بخاری حضرت عائشہ سے یہ حدیث نقل کی جس کے آخر میں ہے کہ آپ تین رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے تھے۔نسائی نے حضرت عائشہ سے روایت کی جس کے آخر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو رکعتوں پر سلام نہیں پھیرتے تھے۔امام طحاوی نے حضرت ابو العالیہ سے روایت کی کہ اصحاب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم وتر مغرب کے فرضوں کی طرح پڑھتے تھے او ر اما م حسن نے فرمایا کہ اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ وتر تین رکعت ہیں ایک سلام سے۔غرضکہ یہ احادیث اما م اعظم وغیرہم کے قوی دلائل ہیں کہ وتر تین رکعت ہیں اور ایک سلام سے۔اس کی پوری تحقیق اسی مقام پر مرقاۃ میں دیکھو یا ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں۔