۱؎ یہ جملہ امام اعظم کی دلیل ہے کہ وتر واجب ہے جس کے چھوڑنے کا اختیار نہیں،اس کی تائید اور احادیث سے بھی ہوتی ہے جو آیندہ آرہی ہے۔
۲؎ اس طرح کہ دو رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔
۳؎ اس طرح کہ تہجد نہ پڑھے صرف وتر ہی تین رکعت پڑھے۔
۴؎ یہ جملہ ہمارے مخالفین کے بھی خلاف ہے کیونکہ ایک رکعت وتر پڑھنے والے یہ نہیں کہتے کہ ایک پڑھے یا تین یا پانچ وہ ایک ہی کو واجب کہتے ہیں اور حدیث سے اختیار ثابت ہورہا ہے لہذا یہ جملہ تین والی احادیث کے مخالف ہے اور ناقابل عمل۔خیال رہے کہ یہاں اس جملہ کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ ایک رکعت دو سے ملا کر وتر بناؤ کیونکہ یہ صورت تو پہلے بیان ہوچکی۔