۱؎ عجیب لطف ہے کہ آپ کو مرقاۃ نے تابعی لکھا اور اشعہ اللمعات میں فرمایا کہ یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کا نام ہے جو جلیل القدر صحابی ہیں یہ اپنی کنیت میں مشہور ہوگئے۔
۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے جس میں حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سات وتر اور دو نفل پڑھتے تھے۔اس حدیث نے بتایا کہ وہاں بھی یہی مراد تھی کہ چار رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔
۳؎ یعنی تہجد کم سےکم چار رکعت پڑھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ دس رکعت یہ آپ کے علم کے لحاظ سے ہے ورنہ دو رکعت بھی تہجد ثابت ہے اور بارہ رکعت بھی۔
۱؎ عجیب لطف ہے کہ آپ کو مرقاۃ نے تابعی لکھا اور اشعہ اللمعات میں فرمایا کہ یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کا نام ہے جو جلیل القدر صحابی ہیں یہ اپنی کنیت میں مشہور ہوگئے۔
۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے جس میں حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سات وتر اور دو نفل پڑھتے تھے۔اس حدیث نے بتایا کہ وہاں بھی یہی مراد تھی کہ چار رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔
۳؎ یعنی تہجد کم سےکم چار رکعت پڑھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ دس رکعت یہ آپ کے علم کے لحاظ سے ہے ورنہ دو رکعت بھی تہجد ثابت ہے اور بارہ رکعت بھی۔