| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ر سول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی ہے اول شب میں درمیانی میں آخری میں اور آپ کے وتر سحر پر منتہی ہوئے ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ سحر سے مراد رات کا آخری چھٹا حصہ ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی عشاء کے وقت وتر پڑھ لیئے اور کبھی عشاء پڑھ کر سوئے اور درمیان رات جاگ کر تہجد و وتر پڑھے مگر آخری عمل یہ رہا کہ صبح صادق کے قریب تہجد کے بعد وتر پڑھے،مسلمان جس پر عمل کرے سنت کا ثواب پائے گا اگرچہ آخر رات میں پڑھنا افضل ہے۔