۱؎ یہاں سوال نفل نماز کے بارے میں تھا۔جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص نفلی نماز قیام پر قادر ہوتے ہوئے بیٹھ کر پڑھے تو اسے آدھا ثواب ملے گا،فرض نماز بلا عذر بیٹھ کر نہیں ہوگی بلکہ جو فرض میں قیام فرض نہ مانے وہ کافر ہے کیونکہ اس کی فرضیت ضروریات دین سے ہے۔
۲؎ اس حدیث کی بنا پر خواجہ حسن بصری وغیرہ علماء نے فرمایا کہ نفلی نماز باوجود قیام پر قدرت ہونے کے لیٹ کر بھی جائز ہے مگر اسے ثواب بیٹھنے سے آدھا ملے گا یعنی قیام سے چہارم۔ احناف کے نزدیک نفلی نماز بھی بلا عذر لیٹ کر جائز نہیں، اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو بیمار فرضی نماز بہ تکلف کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر پڑھ سکے مگر پھر لیٹ کر پڑھ لے تو اگرچہ بیماری کی وجہ سے نماز توہوجائے گی لیکن قیام جیسا ثواب نہ ملے گا کیونکہ یہ مریض بہ تکلف قیام یا قعود پر قادر تھا۔