۱؎ خیال رہے کہ یہ تمام کلام نفلی عبادات کے لیئے ہے کہ بقدر طاقت شروع کرو جو نبھا سکو،فرائض تو پورے ہی پڑھنے ہوں گے لہذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر دو وقت کی نماز ہی پڑھ سکو تو اتنی ہی پڑھ لیا کرو لہذا حدیث صاف ہے، واجبات و سنن فرائض کے تابع ہیں ان کی پابندی لازم ہے۔
۲؎ یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے یعنی اگر تم خود ملال و مشقت والے کاموں کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ روزانہ سو رکعت پڑھنے یا ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مان لو تو تم پر یہ چیزیں واجب ہوجائیں گی، پھر تم مشقت میں پڑ ھ جاؤگے مگر یہ مشقت رب نے نہ ڈالی تم نے خود اپنے پر ڈالی یہ معنی نہیں کہ اﷲ ملال میں نہیں پڑتا حتی کہ تم ملال میں پڑو رب تعالٰی ملال کرنے سے پاک ہے۔ پہلا تملوا باب افعال سے ہے ،دوسرا نصرسے یہ حدیث دین و دنیا کے مشاغل کو شامل ہے درمیانی متنق کرنے والے ہمیشہ کامیاب ہیں۔