۱؎ یعنی رات کے آخری حصہ میں چوری کرتا ہے یا دن میں کم تولتا ہے یہ بھی ایک قسم کی چوری ہے۔
۲؎ یعنی نماز کی برکت سے وہ ان عیوب سے توبہ کرے گا یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے"اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ"۔خیال رہے کہ سارے صحابہ عادل ہیں کوئی فاسق نہیں یعنی گناہ پر قائم کوئی نہ رہا،بعض تو پہلے ہی سے گناہوں سے محفوظ تھے جیسے ابوبکر صدیق اور بعض سے گناہ سرزد ہوئے اور بعد میں تائب ہوگئے جیسے یہ شخص جس کی شکایت ہوئی۔یہ بھی خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اس چور کے ہاتھ اس وقت کٹوائےکیونکہ چوری کا ثبوت شرعی نہ ہوا،نہ شکایت کرنے والے کو غیبت پر کوئی تنبیہ فرمائی کیونکہ وہ غیبت نہ کررہے تھے بلکہ ان کی اصلاح کے خواہاں تھے،جیسے شاگرد کی شکایت استاد سے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب تم فلاں گناہ کرتے ہو تو تمہیں داڑھی رکھنے یا نماز پڑھنے سے کیا فائدہ سخت غلط ہے ان شاءاﷲ یہ نیکیاں گناہ چھڑا دیں گی۔گناہ کی وجہ سے نیکیوں کو نہ چھوڑو بلکہ نیکیوں کی وجہ سے گناہ چھوڑ دو۔