| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ اس شخص پر رحم کرے جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے کہ وہ بھی پڑھ لے اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی چھڑک دے اﷲ اس عورت پر رحم کرے جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے خاوند کو بھی جگائے کہ وہ بھی پڑھ لے اگر وہ نہ مانے تو اس کے منہ پر پانی چھڑک دے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ بیوی کا یہ پانی چھڑکنا خاوند کی نافرمانی یا اس کی بے ادبی نہیں بلکہ اسے نیکی کی رغبت دینا اور اس پر امداد کرنا رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی"۔اس سے معلوم ہوا کہ کسی سے جبرًا نیکی کرانا ممنوع نہیں بلکہ مستحب ہے۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ لوگ عوام کی بزرگوں کی مشائخ کی دعا لینے کے لیئے بڑے بڑے پاپڑ بیلتے ہیں۔دوستو اگر جناب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا لینی ہے تو خود بھی تہجد پڑھو اور اپنی بیویوں کو بھی پڑھاؤ۔بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ اس جوڑے کو ہرا بھرا رکھے۔