۱؎ یعنی رب کی رحمت اور اس کی رضا رات کے آخری چھٹے حصے میں بندے سے بہت قریب ہوتی ہے۔خیال رہے کہ یہاں قربت اوقات مراد ہے اور سجدے سے قرب احوال مرقاۃ۔لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ رب بندے سے سجدے میں زیادہ قریب ہوتا ہے اگر اس وقت بندہ سجدے میں گرا ہو تو اسے وقت کا قرب بھی حاصل ہوگا اور حال کا بھی۔
۲؎ اس میں خطاب حضرت عمرو ابن عبسہ سے ہے اور ان کے ذریعہ ہم سب لوگوں سے۔شیخ نے اشعۃ اللمعات میں لکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عمرو ابن عبسہ کے ایمان لانے کے وقت تھا،آپ بیت اللہ شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد دیکھ کر فدا ہوگئے تھے اور اسی دم ایمان لے آئے آپ چوتھے مومن ہیں شعر۔
دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی دیوانہ تو ہر دو جہاں راچہ کند
۳؎ یعنی اس حدیث کی چند اسنادیں ہیں:بعض اسنادوں میں غریب ہے،بعض میں حسن،بعض میں صحیح،مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ غرابت اور صحت میں منافات نہیں۔