| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے جن کے درمیان مقرب فرشتوں اور ان کے مطیع مسلمانوں اور مومنوں پر سلام سے فاصلہ کرتے تھے ۱؎(ترمذی)
شرح
۱؎ ظاہر ہے کہ درمیان کے سلام سے نماز کا سلام ہی مراد ہے جس پر نماز ہوتی ہے یا ان میں دو رکعتیں تحیۃ الوضو کی تھیں اور دو عصر کی یا چاروں عصر کی،بیان جواز کے لیئے ان کے درمیان سلام پھیرا گیا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں سلام سے مراد التحیات ہے کیونکہ اس میں سلام ہوتا ہے اس صورت میں یہ چاروں رکعتیں ایک سلام سے ہوں گی مگر پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔