۱؎ نماز سے مراد دو رکعتیں ہیں کیونکہ یہ کم سے کم نماز ہے،حنفیوں کے ہاں ایک رکعت کو نماز ہی نہیں کہتے۔مطلب یہ ہے کہ اے تابعین تم عصر کے بعد دو نفل پڑھنے لگے ہم نے یہ نفل پڑھتے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہ دیکھا۔خیال رہے کہ یہاں دیکھنے کی نفی ہے،نہ کہ حضور کے پڑھنے کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعد عصر تنہائی میں دو رکعتیں پڑھتے تھے تاکہ صحابہ نہ دیکھیں نہ آپ کی اس میں اقتداء کریں۱۲
۲؎ طحاوی شریف میں ہے کہ اس نماز کی ممانعت میں متواتر المعنی حدیثیں آئیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ رضی اللہ عنھم نے اس پر ہی عمل کیا کہ نہ خود پڑھیں نہ کسی کو پڑھنے کی اجازت دی۔حتی کہ حضرت عمر اس پر سزا دیتے تھے۔فتح القدیر میں ہے کہ عمر فاروق نے اس نفل پڑھنے والوں کو صحابہ رضی اللہ عنھم کی موجودگی میں سزا دی اور کسی نے اس کا انکار نہ کیا لہذا اس کی ممانعت پر اجماع ہوگیا۱۲