۱؎ یعنی اگر نمازی کو تردد ہے کہ میں نے تین پڑھیں یا چار تو تین مان کر ایک رکعت اور مان لے تاکہ اب یہ تردد ہو جائے کہ چار پڑھیں یاپانچ اور سجدۂ سہو کرلے کہ اگر پانچ رکعتیں ہوگئیں ہوں تو تاخیر سلام کی وجہ سے جو نقصان پیدا ہوا اس کا بدلہ اس سے ہوجائے گا۔خیال رہے کہ اس سارے باب میں حضور علیہ السلام کے سہوؤں کا ذکر ہوا پہلی التحیات میں نہ بیٹھنا دو رکعت پر سلام پھیر دینا،تین رکعت پر سلام پھیرنا،بجائے چار کے پانچ رکعتیں پڑھنا او ر ان سب میں سجدۂ سہو کا ذکر آیا۔ اس بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ نماز کا واجب چھوٹ جانے سے سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے نہ کہ سنتیں اور فرض چھوٹنے سے ہمارا مذہب میں فتویٰ اس پر ہے کہ ہر سجدۂ سہو کے لیے پہلے التحیات پڑھے اور ایک سلام پھیر کر د وسجدے کرے پھر التحیات دونوں درودو دعا پڑھ کر سلام پھیرے۔