روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی اور تین رکعتوں میں سلام پھیردیا پھر اپنے گھر تشریف لے گئے ان کی خدمت میں ا یک صاحب حاضر ہوئے جنہیں خرباق کہا جاتا تھا ان کے ہاتھوں میں کچھ درازی تھی عرض کیا یارسول ا للہ پھر آپ کا عمل شریف ذکر کیا تو آپ غصے میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے تشریف لائے حتی کہ لوگوں تک پہنچ گئے فرمایا کیا انہوں نے درست کہا لوگوں نے کہا ہاں تو ایک رکعت پڑھی پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ صحیح یہ ہے کہ یہ دوسرا واقعہ ہے کیونکہ یہاں حجرے شریف میں پہنچ جانے کا ذکر ہے اور وہاں مسجد میں ٹھہرنے کا ذکر تھا،یہاں غصہ کی وجہ معلوم نہ ہوسکی اور دوسرے ثُمَّ سَلَّمَ سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدۂ سہو کے بعد بھی التحیات پڑھی جائے گی کیونکہ ثُمَّ تاخیر کے لیے آتا ہے۔