۱؎ ظاہر یہ ہے کہ اَعُوْذُ والی سورتوں سے مراد"قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ"اور"قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ"ہے کہ اس میں اَعُوْذُ صراحۃً مذکور ہے،بعض نے فرمایا کہ "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"اور "قُلْ ہُوَاللہُ"بھی اس میں شامل ہیں کہ اگرچہ ان دونوں میں صراحۃً اَعُوْذُ موجود نہیں مگر مقصود وہاں بھی رب کی پنا مانگنا ہے اس پر اکثر صوفیاء کا عمل ہے کہ ہر نماز کے بعد یہ چاروں قل پڑھتے ہیں۔ہر نماز سے مراد فرض نماز ہے اگر جنازہ کی نماز کے بعد یہ چار سورتیں پڑھ کر میت کو بخشی جائیں تو بھی بہتر ہے۔