۱؎ آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ قبیلہ باہلہ سے ہیں،حمص میں قیام رہا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی وفات کےوقت آپ ۳۰یا ۳۳ سال کے تھے،۹۱ سال عمر پائی، ۸۱ھ یا ۸۶ھ حمص ہی میں وفات پائی رضی اﷲ عنہ،آپ کی روایات بہت تھوڑی ہیں۔
۲؎ یعنی دو وقت دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ایک تو آخری رات کے بیچ میں۔دوسرے فرض نمازوں کے بعد۔خیال رہے کہ آخر جوف کی صفت ہے یعنی رات کا درمیانی حصہ جو آخری شب میں ہے اس طرح کہ رات کے دو حصے کرو،آخری آدھے کا درمیانی حصہ لو یہی وقت تہجد کے لیے بہتر ہے اس وقت دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں اور فرض نماز سے یا تو خود فرائض مراد ہیں یا پوری نماز،لہذا بہتر یہ ہے کہ نماز پنج گانہ میں فرضوں کے بعد بھی مختصر دعا مانگے اور پھر سنت و نفل سے فارغ ہو کر بھی دعا کرے کہ یہ ساری نماز فرض نماز شمار ہے۔