۱؎ یعنی کلام تو اﷲ کا اچھا ہے اور طریقہ رسول اﷲ کا اعلیٰ صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ طیبہ خطبہ میں بھی فرماتے تھے اور بعد التحیات نماز میں بھی مگر نماز میں ان کا مقصد حمد و نعت ہے جو ذکر اﷲ ہے نہ کہ دوسرا مقصد یعنی چونکہ اﷲ تعالٰی وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ ہے، لہذا اس کا کلام بھی بے مثال ہے اور چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے مثل ہیں لہذا ان کا طریقہ بھی بے نظیر،لہذا یہ حدیث فقہاء کے اس فرمان کے خلاف نہیں کہ نماز میں سوا ذکر اللہ کے کوئی ذکر نماز کو توڑ دیتا ہے حتی کہ اگر قرآنی آیت بغیر نیت ذکر پڑھے تو نماز فاسد ہے،کسی نے موت کی خبر دی نمازی نے جوابًا کہا اِنَّالِلّٰہِ الخ نماز گئی۔