Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
18 - 993
حدیث نمبر 18
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب تم میں سے کوئی بغیر سترہ نماز پڑھے تو اس کی نماز کو گدھا اور سؤر اور یہودی اور پارسی اور عورت توڑ دیتے ہیں ۱؎  اور جب یہ لوگ نمازی کے آگے پتھر پھینکنے کی مسافت سےگزریں تو سترے سے کفایت کرے گا ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎  اس کی شرح ابھی گزر چکی کہ نماز کا حضورقلبی مراد ہے،وہاں تین کا ذکر تھا یہاں پانچ کا۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ہر ایک کا گزرنا مضر ہے لیکن ان پانچ کا گزرنا زیادہ مضر کیونکہ ان میں دھیان زیادہ بٹتا ہے۔واﷲ اعلم!اگرچہ مجوسی بھی انسان ہیں مگر مسلمانوں کو ان سے نفرت بہت ہوتی ہے اس لیے ان کا سامنے سے گزرنا زیادہ شاق گزرے گا۔

۲؎ یعنی اگر نمازی کے آگے سترہ نہ ہو اور ان میں سے کوئی اتنی دور سے گزر جائے کہ نمازی سجدہ گاہ کو دیکھتے ہوئے ان کا احسا س نہ کرسکے تو کوئی مضائقہ نہیں اور وہ پتھر پھینکنے کی بقدر ہے یعنی اگر یہ نمازی درمیانی پتھر درمیانی طاقت سے پھینکے تو جہاں پتھر گرے اتنے فاصلہ پر گزرنا جائز ہے ۔پتھر سے درمیانی پتھر مراد ہے، پھینکنے سے درمیانی طاقت سے پھینکنا مراد۔
Flag Counter