۱؎ یہاں خصوصی پسندیدگی مراد ہے اور اس حدیث میں حضرت علی مرتضیٰ کی انتہائی عظمت کا اظہارہے ورنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری امت کے ماں باپ سے زیادہ خیرخواہ ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ"اور فرماتا ہے:"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"۔حضور نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے بھائی مسلمان کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسندکرتے ہو۔
۲؎ لَا تُقِعْ اِقْعَاءٌ سے بنا جس کے معنی ہیں سرین زمین پر رکھنا دونوں پنڈلیاں کھڑی کرلینا اور ہاتھ زمین سے لگادینا یعنی اکڑوں بیٹھنا یہ نماز میں منع ہے نمازی جب بھی بیٹھے دو زانو بیٹھے۔