۱؎ آپ کا نام عبدالرحمن ابن شبل ابن عمرو ابن زید ہے،انصاری ہیں،اوسی ہیں،بلکہ انصار کے نقیب رہے ہیں۔حمّص میں قیام رہا،امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲؎ کہ ساجد سجدہ ایسی جلدی جلدی نہ کرے جیسےکوّا زمین پر چونچ مارکر فورًا اٹھالیتا ہے اورسجدے میں کہنیاں زمین سے نہ لگائے جیسے کتا،بھیڑیا وغیرہ بیٹھتے وقت لگالیتے ہیں۔
۳؎ معلوم ہوا کہ مسجد میں اپنے واسطےکوئی جگہ خاص کرلینا کہ اورجگہ نماز میں دل ہی نہ لگے مکروہ ہے،ہاں شرعی ضرورت کے لیے جگہ مقررکرلینا جائز ہے،جیسے امام کے لیے محراب مقرر ہے اور بعض مسجدوں میں مکبر کے لیے امام کے پیچھے کی جگہ،انہیں بھی چاہیے کہ سنتیں اورنفل کچھ ہٹ کر پڑھیں،مسجد میں جس جگہ جو پہلے پہنچے وہاں کا وہی مستحق ہے،بعض سلاطین اسلامیہ خاص امام کے پیچھے اپنے لیے جگہ رکھتے تھے وہ معذوری کی بناء پر تھاکیونکہ اور جگہ انہیں جان کا خطرہ تھا۔یہاں باقاعدہ ان کی حفاظت کا انتظام ہوتا تھا لہذا وہ اس حکم سے عذرًا مستثنیٰ ہیں۔دیکھو شامی وغیرہ۔