۱؎ کہ اونٹ بیٹھتے وقت پہلے پاؤں کے گھٹنے زمین پر لگاتاہے،پھر ہاتھ بچھاتاہے تم ایسا نہ کرو۔
۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث وائل ابن حجر کے خلاف ہے یا یہ حدیث منسوخ ہے،حدیث وائل ناسخ یا یہ حدیث ضعیف ہے اور وہ حدیث قوی۔غرضکہ یہ حدیث ناقابل عمل ہے اورگزشتہ حدیث پر اکثر آئمہ کا عمل ہے جیسا خود صاحب مشکوٰۃ فرما رہے ہیں۔
۳؎ اسی لیے علماءنے اس پرعمل کیا،بعض لوگوں نے کہا کہ حدیث وائل کی اسناد میں شریک قاضی ہے اور وہ ضعیف ہے مگریہ غلط ہے کیونکہ امام مسلم نے شریک سے روایات لیں ہیں،نیز اس حدیث کی دو اسنادیں اور بھی ہیں جن سے انہیں قوت پہنچتی ہے۔