۱؎ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے،ایمان میں اگرچہ تقدیربھی آگئی تھی لیکن چونکہ مسئلۂ تقدیر بہت نازک ہے اور اس میں جبر یہ اور قدریہ کے بہت اختلافات رہے ہیں اور یہ مسئلہ عوام کی عقل سے ورا ہے اسی لئے اس کا علیحدہ باب باندھا گیا۔تقدیر کے لغوی معنیٰ اندازہ لگانا ہیں۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ" کبھی بمعنٰی قضاء اور فیصلہ بھی آتی ہے۔اصطلاح میں اس اندازے اور فیصلہ کا نام تقدیر ہےجو رب کی طرف سے اپنی مخلوق کے متعلق تحریر میں آچکا۔تقدیر تین قسم کی ہے:(۱)مبرم،(۲)مشابہہ مبرم،(۳)معلق۔ پہلی قِسم میں تبدیلی ناممکن ہے،دوسری خاص محبوبوں کی دعا سےبدل جاتی ہے اور تیسری عام دعاؤں اور نیک اعمال سے بدلتی رہتی ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنۡدَہٗۤ اُمُّ الْکِتٰبِ"ابراہیم علیہ السلام کو قوم لوط کیلئے دعا کرنے سے روک دیا گیا کیونکہ ان پر دنیوی عذاب کا فیصلہ مبرم ہوچکا تھا۔آدم علیہ السلام کی دعا سے داؤد علیہ السلام کی عمر بجائے ساٹھ کے سو سال ہوگئی،وہ قضاء مبرم تھی یہ معلق۔خیال رہے کہ تقدیر کی وجہ سے انسان پتھر کی طرح مجبور نہ ہوگیا ورنہ قاتل پھانسی نہ پاتا اور چور کے ہاتھ نہ کٹتےکیونکہ رب تعالٰی کے علم میں یہ آچکا کہ فلاں اپنے اختیار سے یہ حرکت کرے گا،دعائیں،دوائیں،ہماری تدبیریں اور اختیارات سب تقدیر میں داخل ہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری "تفسیرنعیمی"پارہ سوم میں دیکھو۔