؎ آپ کے دادا کا نام عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص ہے،وہ صحابی ہیں۔اس کا ذکر پہلے تفصیل سے ہوچکا۔
۲؎ اشعارسے مراد برے یا عشقیہ اشعار ہیں،حمدالہٰی،نعت مصطفوی،منافقب اولیاء،پندو نصیحت،کفارکی برائیوں کے اشعار پڑھنا جائز بلکہ سنت صحابہ ہے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں حضرت حسان کے لئے منبر بچھواتے جس پر آپ کھڑے ہوکرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور کافروں کی ہجو کے اشعار پڑھتے اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم دعائیں دیتے۔نیزحضرت حسان اور کعب ابن زبیر مسجد نبوی میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نعت خوانی کیا کرتے تھے۔اس کی بحث انشاءاﷲ "باب الشعراء"میں آئے گی۔
۳؎ کیونکہ یہ دنیوی کاروبارہے جومسجدوں میں ممنوع ہے۔آج کل مسجدحرام شریف میں غلافِ کعبہ اورکتب رکھ کر بیچی جاتی ہیں یہ بھی منع ہے،ہاں معتکف بحالت اعتکاف مسجدمیں بیوپار کی باتیں کرسکتا ہے وہاں مال نہیں لاسکتا۔
۴؎ اس وقت وہاں صف بناکربیٹھناچاہیئے،ہاں نماز کے بعد وعظ وغیرہ سننے کے لیے حلقے بناکربیٹھناجائز ہے کیونکہ اب نماز کا انتظارنہیں ہے۔